نئی دہلی11دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )قانون اورانصاف اورالیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے آج الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے نیشنل انفارمیٹکس سینٹر این آئی سی سی ای آر ٹی کا افتتاح کیا۔افتتاح کے دوران وزیر موصوف نے کہا کہ اپنے ڈیجیٹل انڈیا اقدامات کے حصے کے طور پر حکومت نے اپنی بہت سی خدمات آن لائن شروع کی ہیں۔ حالانکہ ان چیزوں نے شہریوں تک خدمات کی رسائی کو آسان بنادیا ہے تاہم اس نے ان خطرات بھی ظاہر کردیا ہے جو سائبر اسپیس کا فطری نتیجہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ حال ہی میں سائبر کے حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو ڈاٹا کی چوری کے خدشات کی وجہ سے ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو ڈاٹا کے تحفظ سے متعلق قانون کا مسودہ بنانا پڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ این آئی سی کافی لمبے وقت سے سرکاری سائبر اسپیس کا تحفظ کرنے کا غیرمعمولی کام انجام دے رہی ہے اور یہ سینٹر قائم کرکے انھوں نے اپنے تجربے اور مہارت کو اگلے سطح تک پہنچادیا ہے۔انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کے سائبر حملوں کا جواب دینے کے لئے حکومت کو ایک چست اور مؤثر ایکو سسٹم کی ضرورت ہے۔ این آئی سی 150 سی ای آر ٹی ایک جامع فریم ورک بنانے کے مقصد کے ساتھ قائم کیا گیا ہے، جس کا پتہ لگانے، روک تھام کرنے اور حادثات کے جواب کے لئے عالمی نوعیت کے سکیورٹی اجزاء کومربوط کرے گی اور سائبر حملوں کو روکنے کے لئے خفیہ معلومات کے افشا کے خطرے کو دور کرے گی۔این آئی سی کے پی این انڈیا کنیکٹیوٹی اور رسائی اس کی اہم طاقتوں میں سے ایک ہے اور اس کے نتیجے میں حملوں کا پتہ لگانے اور روکنے کے لئے اس کے ڈاٹا کو تحفظ فراہم کرنے کی حکومت کی صلاحیت کو بڑھادیا جائے گا۔این آئی سی سی ای آر آرٹی کا قیام ڈیجیٹل انڈیا کے تحت میٹ وائی پہل ہے، جس کا مقصد این آئی سی اور حکومت کے سکیورٹی اندازکوبڑھاناہے۔